اختیارات ِمصطفیﷺ

الک دوجہاں رب العالمین نے اپنے حبیب ﷺ کو اس دنیا ں میں مجبور ومحدود بناکر مبعوث نہیں فرمایا بلکہ صاحب اختار و تصرف بناکر بھیجا‘آپ ﷺ کوحلال وحرام قرار دینے کی اجازت دی کہ آپﷺ ہاں کہیں تو جائز اور نہ کہیں تو ناجائز۔اسی وجہ سے اپﷺ کو شارع علیہ السلام یعنی شریعت بنانے والے کہا جاتا ہے ۔سورہ اعراف ایٓیت(۱۵۷) میں ہے:وَيُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْہِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَمیں ہے:یہ نبیﷺ لوگوں کے لئے پاک چیزوں کو حلال اور ناپاک کو حرام قرار دیتے ہیں۔

آپﷺ نے خدا کی طرف سے آپکو عطاشدہ اس اختیار کا کئی احادیث شریفہ میں ذکر فرمایا:

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:کیا تم میں کاکوئی اپنے تخت پر ٹیک لگائے یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ نے اتنی ہی چیزیں حرام کی ہیں جتنی کہ اس قرآن میں ہیں؟!سنو!اللہ کی قسم میں نے بھی نصیحت کی ہے‘میں نے بھی حکم دیا ہے اور میں نے بھی کئی چیزوں سے (اپنی امت کو)روکا ہےجوکہ (مقدار میں)قرآن کے برابر بلکہ زیادہ ہیں۔بلاشبہ اللہ عز وجل نے تمہارے لئے حلال نہیں کیا کہ تم اہل کتاب کے گھروں میں بغیر اجازت داخل ہوںاور نہ انکی عورتوں کو مارنا اور نہ انکے پھلوں کو (بلااجازت )کھانا(تمہارے لئے حلال ہے)‘جبکہ وہ تم کووہ(جزیہ )ادا کریں جوان پر لازم ہے۔(سنن أبي داود)

ایک اور حدیثِ پاک میںآپ نے فرمایاکہ حضور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب اللہ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے تواسے دین کی سمجھ دیتا ہے۔اورآپﷺنے فرمایا:میں تقسیم کرنا والاہواور اللہ عطا کرتا ہے۔(صحیح بخاری ومسلم)

سنن الترمذی کی روایت ہے جسے حضرت مولی علی کرم اللہ وجہہ بیان فرماتے ہیں کہ جب آیتِ کریمہ’’وَلِلہِ عَلَي النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَيْہِ سَبِيْلًا( اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو)نازل ہوئی تو لوگوں نے پوچھا کہ یارسول اللہ!کیا ہرسال حج فرض ہے ؟آﷺ خاموش رہے‘لوگوں نے پھر پوچھا کیا ہرسال یارسواللہ!آپﷺ نے فرمایا:اگر میں ہاں کہہ دو تو ہرسال واجب ہوجائےگا۔

قرآن کے حکم کے مطابق گواہ دو ہونا ضروری ہے ‘آپﷺ نے حضرت خزیمہ کی تنہا گوائی کو دو کے برابر قرار دیا’حضرت سراقہ کےلئے سونے کے کنگن پہننا حلال کیا۔ اس طرح کی بہت ساری مثالیں ہے جو آپکے منجانب اللہ شریعت کے مختار اور صاحبِ تصرف نبیﷺ ہونے کو بتلاتے ہیں۔

حضرت کعب  رضی اللہ تعالی عنہتوریت سے نقل کرتے ہیں‘آپ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اسمیں لکھا ہواہے:محمد(ﷺ) اللہ کے رسول ہیں ‘وہ میرے مختار(صاحبِ اختیار) بندے ہیں۔(مشكاة المصابيح‘كتاب الْفَضَائِل وَالشَّمَائِل‘بَابُ فَضَائِلِ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ

× رابطہ کریں