مسجد سے تعلق کومضبوط کیجئے

مسجد کی فضیلت کو جاننے کے لئے یہ بات کافی ہے کہ اسکو خدا کا گھر کہا گیاجبکہ خداتعالی جگہ ومکان سے پاک ہے۔حضورﷺ نے فرمایا:بے شک زمین پر اللہ کے گھر مسجدیںہیں‘اور اللہ پر(اللہ کااپنے کرم سے لازم کیا ہوا)حق ہے کہ جو ان(مسجدوں)کی زیارت کریگا(آئیگا)تو وہ اس (آنے والے)کا اکرام کریگا۔ آپﷺ نے فرمایا:اللہ کے پاس سب سے زیادہ پسندیدہ جگہیں مسجدیں ہیں اور اللہ کے پاس سب سے زیادہ ناپسندیدہ جگہیں بازار ہیں ۔

مسمان کے لئےمسجد سے تعلق ومحبت رکھنااور حضوصا نماز پنجگانہ مسجد میں ادا کرنا کس قدر اہم ہے اسکا ثبوت ان احادیثِ شریفہ سے  ہوتاہے :

حضوررسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کوئی مسجد سے الفت رکھتا ہے تو اللہ تعالی اس سے الفت رکھتا ہے۔(المعجم الأوسط -)

آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا:اندھیروں میں مسجد وں کو جانے والوں کو تم روزقیامت کامل نور(حاصل ہونے)کی خوشخبری دو۔

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: جو شخص صبح اور شام مسجد جاتا ہےتو اﷲ تعالیٰ جتنی مرتبہ وہ صبح یا شام مسجد جاتا ہے اتنی مرتبہ اس کے لئے جنت میں مہمانی کا انتظام فرماتے ہیں ۔(صحیح البخاری)

حضور نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا: جب تم کسی شخص کو مسجد پابندی سے آتاجاتادیکھوتواسکے مومن ہونے کی گواہی دو‘ کیونکہ اللہ تعالی فرماتاہے :بے شک وہی اللہ کی مسجد وں کو آباد کرتاہے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتاہے ‘ نمازقائم کرتاہے اور زکات دیتاہے(سورہ توبہ‘آیت۱۸)۔(سنن الترمذي )

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سات اشخاص ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن اپنے (عرش کے) سایہ میں رکھے گا کہ جس دن اللہ تعالیٰ کے (عرش کے)سایہ کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا‘اس میں فرمایا: ایک وہ شخص جس کا دل (مسجد کی محبت کی وجہ سے) مسجد سے نکلتے وقت سے دوبارہ مسجد کو لوٹنے تک مسجد ہی لگا رہتا ہے۔(سنن الترمذی )آپﷺنے ارشادفرمایا:بلاشبہ(کچھ لوگ) مسجدوں کے کھونٹےہوتے ہیں(کہ وہ مسجدوں میں کثرت سے عبادت کرتے ہیں)۔فرشتے انکے ساتھ بیٹھتے ہیں‘اگر وہ موجود نہ ہو تو فرشتے انہیں تلاش کرتے ہیں‘اگروہ بیمار ہوجائیں تووہ انکی عیادت کرتے ہیں اور اگر وہ کسی حاجت میں ہو ںتووہ انکی مددکرتےہیں۔ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی ارشادفرمایا: مسجد میں بیٹھنے والا تین فائدوں میں سے ایک فائدہ حاصل کرتا ہے۔ کسی بھائی سے ملاقات ہوتی ہے جس سے کوئی دینی فائدہ ہوجاتا ہے یا کوئی حکمت کی بات سننے کو مل جاتی ہے یا اﷲ تعالیٰ کی رحمت مل جاتی ہے جس کا ہر مسلمان کو انتظار رہتا ہے۔(مسند أحمد)

افسوس اس بات کا ہے کہ آج مسجدوں سے ہمارا تعلق کمزور ہوتا جارہے ہے‘نماز باجماعت مسجد میں ادا کرنے کا جذبہ کم ہوتا جارہا ہے ۔اور مسجد اور مسجد امام ومؤذن کی تعظیم دکھائی نہیں دے رہی ہے جبکہ آپﷺ نے مسجد کی صفائی کرنے والے کا بھی مرتبہ بتلایا‘حدیث پاک میں ہے کہ ایک کالی عورت مسجد کو جھاڑو دیا کرتی تھی‘اسکا انتقال ہوگیا تو صحابہ نے ضروری نہ جان کراسکی اطلاع آپ ﷺ کو نہیں دی‘ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:تم نے مجھے اس کی اطلاع کیوں نہیں دی۔ پھرآپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مجھے اس کی قبر بتلاؤ‘ تو صحابہ نے بتلایا ‘پس آپ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم اس کی قبر پر نماز جنازہ پڑھے۔ (صحیح مسلم)

جائے۔

× رابطہ کریں